Jamshed Dasti Cycle March
گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کی سیاست ہرروز نیا رخ لیتی ہے ،پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تو پارٹی کے پائے کے رہنماؤں سے ٹکر لیتے رہے ،کبھی حنا ربانی کھر سے محاذ آرائی کی تو کبھی رحمان ملک کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کبھی سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو کرپٹ قرار دیکر ان سے پنجہ آزمائی کرتے رہے ،2013ء کے انتخابات سے قبل حنا ربانی کھر کی مخالفت میں پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیا اور آزاد اُمیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی ،جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی طرف سے انھیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت ملی مگر ہاں بھی ان کی دال نہ گل سکی تو عمران کو یہود ی لابی کہنے والے جمشید دستی پاکستان تحریک انصاف سے متاثر ہو گئے اور قافلے کے ہمراہ اسلام آباد میں عمران خان کے آزادی مارچ میں بھی شرکت کی اور کنٹینرپر چڑھ کر اپنا ستعفیٰ بھی دے ڈالا ،بعدازاں ادھر بھی موڈ نہ بنا تو عمران خان کو چھوڑ کر واپس مظفرگڑھ دوڑے آئے ۔شیخ رشید کیساتھ ملکر دورکنی اپوزیشن بننے کی کوشش کی تو ادھر بھی کامیابی نہ ملی ۔جمشید دستی وُہ خوش نصیب شخص ہیں جو غربت کے سائے میں جوان ہوئے ،دربدر کی ٹھوکریں کھائیں اور بعدازاں مسلسل تین مرتبہ ممبر قومی اسمبلی بنے ۔مگر واضح ہے کہ پیپلز پارٹی کو چھوڑنے والے جمشیددستی پارٹی چھوڑنے کے بعد سنبھل ہی نہ سکے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پارٹی چھوڑنے کے بعد حلقے میں ان کی وُہ اہمیت بھی نہ رہی جو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوا کرتی تھی ۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت آنے کے بعد مظفرگڑھ کی بیوروکریسی نے ان کو اہمیت دینا بھی چھوڑ دی اور نتیجہ یہ نکلا کہ وُہ اپنے ووٹرز کے روزمرہ کے کام کرانے سے بھی معذورہوگئے ۔ جمشید دستی کو جاننے والے بخوبی واقف ہیں کہ جمشید دستی ہر وقت خود کو واضح کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وُہ میڈیا کا استعمال کرنا بھی بخوبی جانتے ہیں ،اس لیے کبھی وُہ کرکٹ کے کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کا الزام لگاتے ہیں تو کبھی جوش خطابت میں تخت لاہور کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ،کاغذات نامزدگی جمع کرانے گدھا ریڑھی پر جاتے ہیں اور کبھی خود پر قائم مقدمات پر خود ہی گرفتاری دینے تھانے پہنچ جاتے ہیں اور اب احتساب کا نعرہ لیکر ممبر قومی اسمبلی جمشیددستی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سائیکل مارچ لیکر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں اور اگلے ماہ عوامی راج پارٹی بھی رجسٹرڈ کرانے جارہے ہیں۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ انڈیا میں شروع کی جانے والی اناہزارے کی کرپشن کیخلاف تحریک اور اس کے نتیجے میں بننے والا احتساب بل اور بعدازاں انا ہزارے کی تحریک سے جنم لینے والی عام آدمی پارٹی اور اس کی بھارت میں مقبولیت ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کو بھا گئی ہے اور اب جمشید دستی پاکستان کے انا ہزارے یا اروند کیجریوال بننے کے خواں ہیں ۔ اسی مقصد کی خاطر ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی نے انا ہزارے کی طرح سیاستدانوں کے احتساب کا نعرہ لیکراسلام آباد کے لیے اپنا سائیکل مارچ شروع کیا ہے ۔جمشید دستی ایسا احتساب بل پارلیمنٹ سے منظور کرانا چاہتے ہیں جس میں تجویز دی گئی ہے کہ کرپشن ،ملاوٹ اور اقربا پروری پر وزیر اعظم ،وزرائے اعلیٰ ،وزراء ،ممبران اسمبلی ،ججز اور بیوروکریسی کو سخت ترین سزادی جائے اور کرپشن کرنے والے کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے ،ضلعی سطح پر احتساب عدالتیں قائم کی جائیں جو دوماہ کے اندر اندر کرپشن کے کیسز کا فیصلہ کریں ۔جمشید دستی کا ارادہ یہ بھی ہے کہ پارلیمنٹ سے بل منظور نہ ہونے پر وُہ پارلیمنٹ کے سامنے اناہزارے کی طرح دھرنا دیں گے اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائیں گے اور تو اور ون مین شو جمشید دستی اگلے ماہ عوامی راج پارٹی کے نام سے اپنی ایک پارٹی بھی رجسٹرڈ کرانے جارہے ہیں (جس طرح انڈیا میں اروندکیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے اناہزارے کی تحریک سے جنم لیا تھا اسی طرح جمشید دستی بھی اپنی تحریک سے عوامی راج پارٹی قائم کرنا چاہتے ہیں )25مارچ کوسائیکل مارچ پر روانگی سے قبل جب اس نمائندے نے ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی سے دریافت کیا کہ کیا وُہ انڈیا کی عام آدمی پارٹی کا طرز سیاست تو نہیں اپنانے جارہے توجمشید دستی کا کہنا تھا کہ وہ کسی ہندو کی نقل نہیں کررہے ،رسول پاک ﷺ نے بادشاہ ہوکر عام سی زندگی گزاری اور وُہ تو رسول پاک ﷺ کی نقل کررہے ہیں ،انڈیا والے نے بھی اچھا کا م کیا ہے اور قوم کو آواز دی ہے ،اس سوال پر کہ سنا ہے کہ وُہ اپنی پارٹی کے لیے جھاڑو کا انتخابی نشان مانگیں گے جمشید دستی نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وُہ جھاڑو یا مٹکے (گھڑے ) کا انتخابی نشان لیں گے ۔جمشید دستی کو سائیکل مارچ پر جانے سے قبل توقع تھی کی جب وُہ سائیکل مارچ پر نکلیں گے اور ہر شہر میں خیموں میں قیام کریں گے تواسلام آباد پہنچنے تک ان کو جو میڈیا کوریج ملے گی وُہ انھیں شہرت کی بلندیوں تک لے جائیگی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جعلی ڈگری کے الزامات کی زد میں رہنے والے ون مین شو جمشید دستی اپنے طرز سیاست میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر اپنی باقی ماندہ سیاست بھی ختم کرلیں گے


زبردست پوسٹ مارٹم کیا ہے . لیکن جمشید دستی یہ بهول رہے ہیں کہ انا ہزارے اور کیجریوال پر رشوت ستانی کا کوئی بھی دهبہ نہیں اور ہندوستانی سیاست کی بنیاد 68
ReplyDelete